Thursday, 3 July 2014

غازی علم دین شھید ؒ کے لا ہور ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے کاجائزہ

غازی علم دین شھید ؒ کے لا ہور ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے کاجائزہ

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

ashrafasmi92@gmail.com


نبی پاک ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے والے عظیم مجاہد جناب غازی علم دین شھید کی یاد اس طرح زخموں پر مرہم رکھتی ہے جیسے صحرا میں نخلستان۔ تاریخ عالم اُن مبارک ساعتوں کو کیسے فراموش کر سکتی ہے جو مبارک لمحات غازی علم دین نے گستاخِ رسول ﷺ کو جہنم رسید کرنے کے بعد اور تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے گزارے۔ محبت کے انداز اور تقاضے عقل و ادراک کے محتاج نہیں ہوتے ۔ عشق کبھی بھی کسی دنیاوی تقاضے کا پابند بھی نہیں ہوتا۔ عشق رسول ﷺ کی ایمان افروز روشنی مومن کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ محبت رسول ﷺ کی لذت سے مومن کی آشنائی ہر کس وناکس سے اُسے ماورا کرتی ہے۔غازی علم دین شھید کو کہنے کو تو پھانسی دے دی گی۔ لیکن وہ پھانسی حیات جاودانی کا ایسا مشروب غازی صاحبؒ کو پلا گئی کہ پھر اُسکے بعد غازی صاحب ایسی روشن راہوں کے مسافر بن گئے کہ جناب محمد رسول اللہﷺ کے پروانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے امید اور آگہی کا روشن مینار بن گئے۔ جس دور میں جناب غازی علم دین شھیدؒ کو یہ مقام میسر آیا اُس وقت انگریز کا راج اور ہندووں کی مکاری عروج پر تھی مسلمان اقلیت میں ہونے کی بناء پر پسے ہوئے تھے۔ ان حالات میں علم دینؒ کو بقول اقبالؒ دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب شے ہے یہ لذتِ آشنائی۔ لذت آشنائی پھر چونکہ چنانچہ کے چکروں میں نہیں آتی وہ تو اطیواللہ واطیوالرسول کی اسیر ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جو اُس دور میں رہ رہے تھے اُن کے لیے واقعی یہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اُس دور کے دانشوروں علماء اساتذہ ہر شعبہ زندگی کے افراد نے جناب غازی علم دین شھید ؒ کی قسمت پر رشک کیا ۔میانوالی جیل میں غازی صاحبؒ کو پھانسی دے کر نبیﷺ کے عاشقوں کو ایک نئی جلو نے اپنے حصار میں لے لیا اور عشق ومستی کا قافلہ نہایت کھٹن اور مسائل کے ہوتے ہوئے بھی غازی صاحبؒ کی شہادت پر رب پاک کے حضور سر بسجود ہوا۔ عشق تو نام ہی آقا کریمﷺ کی ذات میں خود کو گم کرنے کا ہے اور یوں نبی پاکﷺ کی عزت وناموس کی خاطر خود کو امر کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ لاہور خوش قسمت ہے کہ داتا علیٰ ہجویری کی نگری میں ایک عظیم عاشق ِ رسولﷺجسے غازی علم دین شھید کہتے ہیں نبی پاک ﷺ کی شان پرقربان ہوا اور امر ہوگیا
آج جب اس عظیم شخص کو اپنے پیارے نبی پاک ﷺ پر قربان ہوئے اسی سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن غازی علم دین شھید ؒ کا نام اِس طرح لیا جاتا ہے جس طرح کسی بھی زندہ شخص کا نام لینا چاہیے ہوتا ہے جبکہ وہ ہستی بھی عاشقِ رسولﷺ ہو۔ ایسا کیوں نہ ہو رب پاک واشگاف الفاظ میں اپنی کتاب قران پاک میں فرماتا ہے کہ جو اللہ کہ راہ میں مارا جاتا ہے وہ زندہ ہے تمھیں اِس باات کا شعور نہیں، حتیٰ کہ شھید کو اللہ پاک کے ہاں سے رزق بھی ملتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ شھید چونکہ زندہ ہے اِس لیے اُس کو مردہ کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے تاریخ عالم نے بہت سے نیک بندوں کو اپنے رب پاک کی راہ میں جان دیتے دیکھا ہے حغرت عمار ابن یاسر کے والدین سے محمد مصطفےﷺ کے غلاموں کی شہادتوں کا شروع ہونے والا سفر جاری و ساری ہے اور غازی علم دین شھید اسلام کے وہ عظیم پیروکار ہیں جن پر اُمتِ مسلمہ کو فخر ہے۔ عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا عشق انسان کو انسانیت کے اعلیٰ وارفع مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔ حغرت بلالؓ حغرت اویس قرنیؓ کے راستے پر چلتے ہو ئے غازی علم دین شھید نے وہ مقام حاصل کیا کہ جس کے متعلق شاعرِ مشرق حکیم الامُت حضر ت علامہ اقبال ؒ پکار اُ ٹھے کہ ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گے۔ یقیناً حضرت اقبال جیسی شخصیت کی جانب سے غازی علم دین شھید کو بہت زبردست خراجِ تحسین ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جب اِس کیس کی اپیل کی سماعت ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا اس کے مطابق، علم دین بنام ایمپرر اے آ ٰئی آر 1930 لاہور 157کریمنل اپیل نمبر 562 آف 129۔قاتل 19 یا20 سال کا ہے ۔ اور اپنے مذہب کے بانی کے خلا ف کہے جانے والے اور کیے جانے والے فعل پر ناراض ہے ۔ علم دین جو کہ ایک تر کھان ہے اور سریاں والا بازار لاہور شہر کا رہائشی ہے جس نے 6اپریل 1929 کو راج پال کو قتل کیا اور اِسکو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت دی گئی۔ علم دین کی طرف سے اپیل کی گی اور سیکشن 374 سی آر پی سی کے تحت عدالت کے سامنے ہے۔ مرنے ولا ایک ہندو تھا جو کہ کتب فروش تھا اور ہسپتال روڈ پر اُسکی دکان تھی۔ کچھ عرصہ پہلے اُس نے مسلما نو ں کے مذہب کے بانی کے خلاف ایک پمفلٹ چھاپ کر مسلمانوں کو دُکھ پہنچایا تھا۔
ؒ راج پال کو دفعہ ایک سو تریپن ائے جو کہ پبلی کیشن کے متعلق ہے کہ مطابق جنوری 1927 کو قصور وار ٹھرایا گیا تاہم مئی 1927 میں ہائی کورٹ نے اُس کی سزا کو معطل کردیا۔ چھ اپریل 1929 کو راج پال پر دن دو بجے قاتلانہ حملہ کیا گیا راج پال کو آٹھ زخم آئے زخموں کی نوعیت سے لگتا ہے کہ راج پال نے خود کو بچانے کی کوشش کی ، راج پال کے ہاتھ پر چار زخم لگے تھے۔ اُس کے سر کے بلکل اوپر ایک زخم لگا جس سے اُسکے سر کی ہڈی کریک ہوئی ۔ اُس کی چھاتی پر بھی ایک گہرا زخم آیا۔PW-8 جو کہ آتما رام ہے اُس سے اپیل کندہ علم دین نے چھ اپریل کی صبح ایک چاقو خریدا علم دین راج پال کی دکان پر دن دو بجے پہنچاراج پال برآمدہ سے باہر گدی پر بیٹھا خطوط لکھ رہا تھا کہ اس پر علم دین نے حملہ کر دیا اس واقعہ کے چشم دید گواہ ناتھ PW-2ور بھگت رام (pw-3)جو کہ راج پال کے ملازم تھے۔ان میں سے گواہ (pw-2)بر آمدے کے اندر بیٹھا تھا اور (pw-3)گواہ برآمدے کے باہر شیلف میں کتابوں کو ترتیب دے رہا تھا۔انھوں نے الاارم بجایا کتابیں علم دین پر پھینکیں۔کر دناتھ اور بھگت رام جن کے ساتھ باہر سے نانک چاند(pw-1) اور پارمانانند مل گئے اور انھوں علم دین کا پیچھا کیاودیا راتھن جوکہ علم دین کو اپنے دفترکے دروازے سے دیکھ رہا تھا نے دوسرے لوگوں کی مددسے علم دین شہید کو پکڑ لیا۔علم دین باربار وانچی آواز میں شور مچانے لگا کہ وہ نہ تو چور ہے نہ ہی ڈاکو بلکہ اس نے تو نبی پاک ﷺ کا بدلہ لیا ہے۔علم دین کو مقتول کی دوکان پر لے جایا گیا اور پولیس کو بلایا گیا اور پولیس نے علم دین کو پکڑ لیا اور تفتیش کے دوران کردناتھ نے جو بیان اس کے مطابق جب علم دین کو پکڑا گیا۔اُس نے نہ تو کوئی مزاحمت اور نہ ہی اُس نے اپنے کسی ساتھی کا نام بتایا علم دین کے بیان پر آتمارام کی دکان کو تلاش کیا گیااور 9 اپریل کو آتما رام نے علم دین کو شناخت پریڈ میں شناخت کرلیا یہ شناخت پریڈ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی ہوئی اور علم دین کو اُسی شخص کے طور پر پہچان لیا جس کو اُس نے چاقو فروخت کیا تھا جوکہ راچبال کی دکان سے ملا اس میں کوئی شک نہیں کہ آتمارام نے اس طرح کے چاقو اور لوگوں کو بھی فروخت کیے ہوں گئے۔ اسی طرح کے دو چاقو اُس نے بطور ثبوت عدالت پیش کیے آتمارام نے بتایا کہ اُس نے یہ چاقو ایک میڈیکل سٹور سے نیلامی میں خریدے تھے مسٹر جناح نے پراسیکیوشن کی کہانی پر مختلف groundsپر attackکیا انھوں نے اسی بات پر زور دیا کردی ناتھ قابل اعتما د گواہ نہیں ہے کیونکہ1) (وہ مقتول کا ملازم تھاپس وہ اس لیے intrested تھا2) (اُس نے ایف آئی آر میں نہیں بتایاکہ (a) کہ بھگت رام اُس کے ساتھ تھا ) (b اور علم دین نے یہ کہا کہ انھوں پیغمبرا سلامﷺ کابدلہ لیا ۔کیونکہ بھگت رام بھی راج پال کا ملازم تھا اس لیے وہintrestedکی صف میں ہے بیانات کی صحت پر اعتراض لگائے گئے جوکہ پولیس کو دئیے گئے تھے جس کے سبب آتمارام کاپتہ چلا اور آتمارام کی وجہ سے علم دین کی شناخت ہوئی اور آتمارام نے چاقوکی فروخت کی بابت بیان دیامسٹر جناحؒ نے اُس کو جھوٹا قرار دیا ۔جج صاحب نے شہادتوں کو ڈسکس کرنے کے بعدیہ قرار دیا کہ جرم ثابت ہو گیا ہے علم دین کی عمر کم ہے وہ19 یا20 سال کاہے اور اُس کا یہ ایکٹ اپنے مذہب کے بانی کی وجہ سے ہے جیساکہ عامر بنام امپیرر کیس میں تھا اس بناء پر کہ کیونکہ قاتل کی عُمرکم ہے اور وہ 19یا20سال کا ہے یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ اُسے قانون کے مطابق سزانہ دی جائے ۔ مسٹر جناحؒ کی یہ Reason کے قاتل کی عُمر تھوڑی ہے اور اُس کو کپیٹل سزانہ دی جائے ۔ اور اُسے جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنے کی سزانہ دی جائے ۔ میں اپیل کو ڈ سمس کرتا ہوں اور سزائے موت کی توثیق کرتا ہوں ۔یہ فیصلہ ہے جو لاہور ہائی کورٹ نے لکھا اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غازی علم دین شہید صاحب نے یہ بات کہی کہ اُنھوں نے راج پال کو قتل نہیں کیا۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا غازی صاحب نے راج پال کو کسی شے کے لالچ میں قتل کیا۔ اُنھوں نے تو یہاں تک کہہ د یا کہ جب لوگوں نے اُن کو راج پال کو جہنم رسید کرنے پر پکڑا تو انھوں نے کہا کہ نہ تو میں چور ہو اور نہ ہی ڈاکو میں نے تو یہ سب اپنے نبی پاک ﷺ کی عزت کی خاطر کیاہے ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر غازی صاحب مصلحت کا شکار ہو جاتے تو جرم سے انکار کردئے اور اپنی جان بخشی کروالیتے۔یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی الہامی مذہب کے پیروکاروں کو کیا صرف آزادی رائے کے اظہار کے نام پر دکھ پہنچایا جاسکتا ہے۔ دین اسلام کے مطابق تمام انبیاء اکرام کی عزت و ناموس کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن نبی پاک ﷺ کے خلاف آئے روز مغربی ممالک کے نام نہاد آزادی رائے کے پرستاوروں کی جانب سے گستاخی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا امتحان لیا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں 295C کا قانون اِس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی بھی شخص پر انبیاء اکرام کی گستاخی کا الزام لگتا ہے تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اور انصاف کے تما م تر تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ نہ کہ عوام خود انصاف کریں انصاف کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ آج تک توہین رسالت کے قانون کے تحت کسی بھی غیر مسلم کوپاکستان میں سزا نہیں دی گئی۔ آخری الہامی کتاب قران مجید نے صاحب قران جناب نبی پاک ﷺ کی عزت وحرمت کے متعلق واضع احکامات دےئے ہیں۔اقبالؒ کے مطابق مسلمان کے اندر روح محمدﷺ ہے اور جب روح محمد مومن کے اندر ہے تو پھر کوئی بھی مومن کسی بد بخت کی جانب سے نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں کیسے گستاخی برداشت کرسکتا ہے۔ اگر غازی علم دین شھید ؒ کے دور میں بھی توہین رسالت کا قانون ہوتا تو پھر کسی راج پال کو ایسا کرنے کی جُرات نہ ہوتی۔ جناب غازی علم دین شھید نے اپنی زندگی قربان کرکے اپنے آقاﷺ کی شفاعت حاصل کرلی۔ حضرت قائد اعظمؒ جیسی عظیم ہستی جناب غازی صاحبؒ کی وکالت کرنے کے لیے لاہور پہنچی۔ لیکن شھادت کا جام پینے کے لیے بیقرار غازی صاحبؒ اپنے آقا کریم ﷺ کے نام پر فدا ہوگے۔ اِس لیے جو نام نہاد لبرل فاشسٹ یہ شور مچاتے ہیں کہ 295C قانون کو ختم کیا جائے تو اِن کو یہ نظر نہیں آتا کہ اِسی قانون کی وجہ سے تو عدالت کو انصاف کرنے کا موقع ملتا ہے ورنہ ہر مسلمان غازی علم دین شھید ہی تو ہے۔بقول جناب مولانا رومیؒ ، ملتِ عشق از ہمہ ملت جُدا است ، عاشقاں را مذہب و ملتِ خدا ست، یعنی عشق والوں کا مسلک سب سے جُدا ہوتا ہے، عاشقوں کا مسلک اور مذہب صرف خُدا ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ گزشتہ پچس سالوں سے قانونی ،سماجی عمرانی، نفسیاتی ، معاشی مو ضوعات پر لکھتے ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔ معاشیات اور قانون کے اُستاد ہیں۔ معروف سماجی انصاف کی تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں اور برصضیرپاک و ہند کی عظیم درگاہ حضرت میاں محمداسما عیلؒ المعروف حضرت میاں وڈا صاحب ؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔

سیکشن 154سی آر پی سی کے تحت پولیس کو جُرم کی اطلاع اور تفتیش کے اختیارات اور عملی صورتحال,,میاں محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

سیکشن 154سی آر پی سی کے تحت پولیس کو جُرم کی اطلاع اور تفتیش کے اختیارات اور عملی صورتحال

میاں محمداشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

پاکستانی معاشرے میں معاشی اور سماجی اونچ اور نیچ کی وجہ سے عوام بُری طرح پِس رہے ہیں نام نہاد این جی اوز ڈالر اور پونڈ لے کر نہ جانے کون سے انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں یہ توصرف زبانی جمع تفریق یا بڑے ہوٹلوں میں سیمینار اور میڈیا میں خود کو پروجیکشن دینے کے علاہ کچھ بھی نہیں کر پارہی ہیں بھٹہ مزدوروں کے مسائل ، عورتوں کے حقوق کے حوالے سے عملی اقدامات اور عام آدمی کے ساتھ ہونے والے ظلم میں یہ کہاں نظر آتی ہیں ۔ اکیسویں صدی کے معاشرے میں بھی پاکستانی معاشرئے کو چند ہزار لوگوں نے یرغمال بنا رکھا ہے اِن میں سیاست دانوں کے روپ میں جاگیردار، وڈیرے اور بیوروکریٹ شامل ہیں۔ امن ناپید ہے اور انسانی خون اتنا ارزاں کے پولیس سمیت تمام ادارئے بے بس۔ وطن میں جاری خود کُش حملوں نے پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پولیس فورس کا نام ذہن میں آتے ہی یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ پولیس کا کام لوٹ مار کو تحفظ دینا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ہمارئے معاشرئے میں پولیس صرف سیاستدانوں وڈیروں جاگیرداروں کے لیے کام کرتی ہے یا پھر کوئی غریب ان سے انصاف کی توقع لیے بیٹھا ہے تو شائد وہ خوابوں کی دُنیا میں ہے۔سی آر پی سی کے تحت پولیس کے پاس جو بھی شخص کسی بھی جُرم کی بابت اطلاع لے کر آتا ہے تو پولیس اسٹیشن کا انچارج اِس حوالے سے پابند ہے کہ وہ شکایت کنندہ کی شکایت پر کاروئی کرئے اور اُس کاروئی کے لیے اےٖف آئی آر درج کرئے یا اگر وہ ناقابل دست اندازی جُرم ہے تو اُس کی رپٹ درج کرنے کا پابند ہے۔ لیکن یہاں تو پولیس خود تو کُجا ایڈیشنل جج صاحبان جو کے 22A,22B سی آر پی سی کے تحت ایس ائچ او صا حبان کو ایف آئی کے اندراج کا حکم دیتے ہیں وہ مہینوں گزر جانے کے بعد میں تعمیل پذیر نہیں ہو پاتا۔ اِس عالم میں عوام کا عدلیہ سمیت پولیس اداروں پر اعتماد کا عالم کیا ہوگا۔ آئین پاکستان کتابوں میں لکھے ہوئے الفاظ کی حد تک تو تمام شہریوں کا حقوق کا ترجمان ہے لیکن عدلیہ کے پاس قوت نافذہ نہ ہے کیونکہ حکومتی ادارئے اپنی من مانی کرتے ہیں ۔اور عدلیہ کے احکامات کو عدالت کے کمرئے میں ہی صرف تسلیم کرتے ہیں ۔ اِس سارئے معاملے میں عدلیہ قصوروار نہیں ہے بلکہ حکومتی ادارئے ہیں۔قانون تو کہتا ہے کہ قابل دست اندازی جرم کے وقوع پزیر ہونے کی بابت جب بھی کوئی تحریری یازبانی درخواست پولیس اسٹیشن کے انچارج کو دی جائے توجو پولیس اسٹیشن کا انچارج ہوگا وہ اس زبانی درخواست کو تحریرکرئے گا یا کسی کو ایساکرنے کیلئے کہے گا درخواست لے کر آنے والے سے اُس کے اوپر دستخط بھی کروائے گا اس درخواست کی بابت اُس کتاب میں اندراج کرئے گا جو صوبا ئی حکومت نے اُس انچارج پولیس اسٹیشن کو اِس بابت دے رکھی ہے سیکشن 154سی آرپی سی کے تحت پولیس اسٹیشن کے انچارج کی ڈیوٹی ہے کہ وہ قابل دست اندازی جرم کا اندراج اُس کتاب میں کرئے جسے ایف آئی آر کہتے ہیں اور ناقابل دست اندازی جرم کااندراج جس کتاب میں میں کرئے گا اُسکا نام روز نا مچہ ہے اور یہ کتاب اِس مقصد کے لئے صوبا ئی حکومت کے ایما ء پر انچارج پولیس اسٹیشن کودے رکھی ہوئی ہے نا قابل دست اندازی جرم کی بابت جو رپورٹ ، پولیس اسٹیشن کے انچارج نے درج کی ہوتی ہے عام طور پر اُس کے حوالے سے کوئی ایکشن پولیس نہیں لیتی ہے تا ہم اگر ایس ایچ او درست سمجھتا ہے کہ تفتیش کرنا مقصور ہے تو

سیکشن 155کے سب سیکشن(2)سی آر پی سی کے تحت اُسے مجسٹر یٹ سے آرڈڑ لینا پڑے گا اگر کوئی گرفتا ری وغیرہ عمل میں لاتی ہے تو اِس مقصد کے لئے سیکشن 155سب سیکشن crpc(3)کے تحت ورانٹ گرفتا ری مجسٹریٹ سے لینا ہوں گئے crpcسیکشن 156(1)یہ اختیار پولیس اسٹیشن کے انچارج کودیتا ہے کہ وہ کسی بھی قا بل دست اندازی جرم کی تفتیش بغیر مجسٹریٹ کے آرڈر کے کرسکتا ہے2005Pcr LJ906 کے مطابق154سیکشن crpcکے تحت پولیس اسٹیشن انچارج کی ڈیوٹی ہے کہ وہ قابل دست اندازی جرم کا اندارج کرئے اور سیکشن crpc156(1)کے تحت تفتیش کے لئے مجسڑیٹ کے حکم کی ضرورت نہ ہے 2000 P.Cr.L.j320کے مطابق سیکشن crpc154کے تحت پولیس اسٹیشن کے انچارج کا فرض ہے کہ وہ قابل دست اندازی جرم کی ایف آئی آر کا اندارج لازم کرئے سیکشن 154کے تحت اگر نا قابل دست اندازی جرم ہے تو پھر اُس کی معلومات متعلقہ رجسٹرمیں درج کرئے لیکن کسی بھی معاملے میں خواہ قابل دست اندازی جرم ہے یا ناقابل دست اندازی جرم ہے یہ بات درست نہ ہے کہ وہ کیسی کو رجسٹر کرنے سے انکا رکردے ۔ہر حال میں کیس کا اندراج ضروری ہےCMR424 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس کو یہ اختیا ر نہیں ہے کہ وہ کیس کو رجسڑکرنے کی بابت تاخیر کی مرتکب ہوPLD2000Lah78 کے مطابق کریمنل کیس کا تھانے میں اندراج کر وانا متاثرہ شخص کا خود مختار انہ حق ہے
PLD2005kar 621 کے مطا بق SHOکو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ FIRکے اندراج سے انکار کرئے ۔
(PLD2005kar40) کے مطابق ا اینٹی کار لفٹنگ سیل نے ایچ H) (مقام سے کار کو اُٹھایا جب کہ کیس Kمقام پر جاکر 5ماہ کے بعد درج کروایا اُس عدالت کی اجازت کے بغیر جو کہ K مقام کے عدالت تھی۔ اِس طرح کا اختیا ر یونیفارم کا غلط استعما ل ہے ۔اگر اِسکو نہ روکا گیا تو معصوم شہریوں کی زندگی قابل رحم بن جائے گی ۔PLJ2004Lah102 کے مطابق 154 سیکشن CRPCمیں استعمال ہونے والے یہ الفاظ کہ ہر قابل دست اندازی جرم کی اطلاعات کا مطلب یہ ہے کہ یہ مبینہ جرم ہواہے یعنی صرف اطلاع ہے اِسکا مطلب یہ نہیں کہ جرم ہوا ہے یا نہیں اور بعد میں کوئی قصوروار ٹھرتا ہے یا نہیں مطلب یہ ہے کہ اندراج ضروری ہے 154سی آر پی سی کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 199کے ساتھ اگر پڑھا جائے ۔
سیکشن 1992, P.Cr.L.Jکے مطابق پولیس آفیسر کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ اگر شکایت کنندہ قابل دست اندازی جرم کی اطلاع دیتا ہے تو وہ اِس شکایت پر کیس رجسٹر کرئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے 1993scmr550کے مطابق یہ پولیس کا لازمی فرض ہے کہ وہ کیس رجسٹرڈکرئے پی ایل ڈی 1972Lah493 کے مطابق اگر پولیس آفسر اپنا فرض بابت رجسٹر کرنے ایف آئی آر ناکام ریتا ہے تو پھر اِسکے آفسرجسکا وہ ماتحت ہے کہ وہ اِس کے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کے حوالے سے اُس سے پوچھے۔1994MLD1736 کے مطابق کسی بھی واقعے کے مختلف نقطہ نظر ریکا رڈ نہیں کیے جاتے لیکن جہاں یہ ضروری ہے کہ دونوں طرف کے نقطہ نظر کے بغیر قابل عمل انکوائری ممکن نہیں جہاں ایک علحیدہ قابل دست اندازی جرم ظاہر کیا جائے تو اِن حالات میں ایک اور ایف آئی آر درج ہونی چاہیے ۔PLJ2000 Pesh مطابق پولیس افسر کے خلا ف کیس درج ہوسکتا ہے اِ س فیصلے
کے مطابق متوفی کی والدہ نے پولیس ا فسر کے کردار کو اپنے بیٹے کے قتل میں مزکورکیا ہے پولیس کو یہ حق حاصل نہ ہے کہ وہ صرف اِس وجہ سے کسی شہری کی جان لے یا صرف اِس وجہ سے کسی کو قتل کردے کہ اُس پر کوئی الزام ہے یا وہ سابقہ جرائم کی بابت ریکا رڈ ہو لڈر ہے پولیس کو یہ حکم دیا جا تا ہے کہ وہ پولیس افسر کے خلا ف کیس درج کرئے ۔1999P.CR.LJ,1193 کے مطابق پولیس کا یہ فرض کہ وہ کسی بھی کیس کی تفتیش انصاف کے تقاضو ں کے مطابق اور شفاف انداز میں کرئے اِس حوالے سے اپنے افسران کو اثرانداز نہ ہونے دے۔ مندرجہ بال عدالتی فیصلوں کے مطابق تو پولیس کو ہر اُس سائل کی درخواست پر ایکشن لینا چاہیے جو پولیس کے پاس آتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوپاتاکیونکہ ہمارئے معاشرئے کو جو روشنی رب پاک نے نبی پاکﷺ کے ذریعے عطا فرمائی اُس سے فیض نہیں اُٹھایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ مصطفائی جسٹس فور م اور انسانی حقوق فرنٹ کے سربراہ ہیں۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں اور قانون کے طالب علموں کے لیے تحقیقی کتاب رول آف لاء کے مصنف ہیں گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی،قانونی معاشی موضوعات ہر لکھتے ہیں۔ اِن کا تعلق برصضیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت میاں محمد اسماعیل المعروف حضرت میاں وڈا صاحب ؒ کے خانوادئے سے ہے۔


HAZRAT MIAN MUHAMMAD ISMAIL ALMAROOEF HAZRAT MIAN WADA R.A